اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور خلیج فارس کے کنارے واقع ریاستوں میں بحرینی انقلاب نے ہلچل مچا دی ہے اور یہ خاندانی اور مطلق العنان حکومتیں اپنے آپ کو بچانے کے لئے بحرین کے انقلاب کو بہرقیمت ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ بحرینی اور عمانی انقلابات کو روکنے کے لئے ان مطلق العنان خاندانوں نے 20 ارب ڈالر کا بجٹ بھی منظور کیا اور بظاہر اعلان کیا کہ آل خلیفہ اور قابوس خاندانوں کو یہ امداد اس لئے دی گئی ہے کہ وہ عوام کے لئے رہائش اور روزگار کے مواقع فراہم کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رقم انقلابیوں کو کچلنے کے لئے دی گئی ہے۔ بحرین کی آبادی کا 90 فیصد حصہ شیعیان اہل بیت (ع) پر مشتمل ہے لیکن بحرین کا انقلاب قومی انقلاب ہے جس میں شیعہ اور سنی برابر کے شریک ہیں۔ انقلاب کے ابتدائی مطالبے کے تحت سینکڑوں سیاسی قیدی رہا ہوئے تو دنیا والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ ان میں صرف 100 کے قریب افراد شیعہ اور باقی سنی تھے۔ درحقیقت بحرین کی حکومت سنی ہونے کا دعوی کرکے سنیوں کی حمایت حاصل کرتی رہی ہے جبکہ یہ ایک سیکولر حکومت ہے اور پھر یہ صرف آل خلیفہ کی خاندانی حکومت ہے جس میں دوسروں کو کوئی حصہ ملا ہے نہ ملے گا۔ سعودی خاندان اپنی سرزمین میں عشروں سے 25 لاکھ شیعہ آبادی کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور سنیوں کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کا بھی استحصال کررہا ہے اور اب انقلاب کو اپنی سرحدوں سے دور کرنے کے لئے اس نے بحرینی انقلابیوں کو کچلنے کا ارادہ کیا ہے اور بہانہ یہ ہے کہ وہ خلیج فارس کے علاقے میں امن بحال کرنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب نے بحرینی انقلاب کے پہلے ایام میں بھی مداخلت کی تھی لیکن اب وہ خلیج فارس تعاون کونسل سے غلط فائدہ اٹھا کر بحرین میں سرکاری طور پر مداخلت کرنا چاہتا ہے اور اسے چینج کے نعرے سے اقتدار سنبھالنے والی امریکی انتظامیہ کی حمایت بھی حاصل ہے جو دنیائے عرب میں تبدیلی کا راستہ روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ دریں اثناء ایک طرف سے بحرینی ولیعہد نے دعوی کیا ہے کہ اصلاحات تک پہنچنے کا واحد راستہ مذاکرات کا آغاز ہے اور ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آل خلیفہ حکومت اپنی کمزور پوزیشن کو بیرونی قوتوں کی پشت پناہی سے مضبوط کرکے عوام کے ساتھ برابر کے مذاکرات کرنے کے خواہاں ہے مگر دوسری طرف سے بحرینی نوجوانوں نے کہا ہے کہ "سعودی اور خلیجی فورسز کو آنے دو ہم شہادت کے لئے تیار ہیں اور کفن پوش ہوکر ان کا استقبال کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ٹینک منامہ میں داخل ہورہے ہیں اور بعض اطلاعات کے مطابق سعودی گماشتے اس وقت میدان اللؤلؤة کے قریب تعینات ہورہے ہیں۔
دریں اثناء سعودی حکام نے بھی کہا ہے کہ انھوں نے ایک ہزار فوجی بحرین بھیج دیئے ہیں۔
دوسری طرف سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قطری فورسز بھی بحرین جانے کےلئے سعودی عرب کے مشرق میں دمام ائیر بیس پہچ گئی ہیں جہاں سے وہ بحرین کے لئے روانہ ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اپوزیشن راہنماؤں نے کہا ہے کہ بیرونی افواج کی آمد کا مطلب بحرین کے خلاف اعلان جنگ سمجھی جائے گی۔
بحرینی قانوندان محمد المسقطی، نے کہا کہ ہر قسم کی بیرونی فوجی مداخلت بحرین پر بیرونی ممالک کا قبضہ تصور کیا جائے گا۔
..........
/110
- ویڈیو/ بحرین میں سعودی فوجی مداخلت
- تصاویر/ بحرین میں سعودی فوجی مداخلت
- آل خلیفہ حکومت اندرونی اختلافات کا شکار ہوگئی
- خلیج فارس تعاون کونسل کی فورسز بحرین میں تعینات ہورہی ہیں
- بحرین/ مظاہرین نے خلیفہ بن سلمان ہائی وے کو بند کردیا / تصاویر